کہیں چراغ مِلا اور کہیں ستارا مِلا
سو مَیں جمالِ شبِ خواب سے دوبارہ مِلا
نہیں تو اپنے ہی سائے پہ گِر پڑی ہوتی
مِرے وجود سے دیوار کو سہارا مِلا
پلٹ کے دیکھنا ممکن نہیں کہ وحشت میں
کہاں کسی کو کسی یاد کا کنارا مِلا
کسی طرح مجھے تقسیم کر دیا اُس نے
کسی کو آدھا مِلا اور کسی کو سارا مِلا
تمام رات جب آنکھوں میں کاٹ لی مَیں نے
سحر کے وقت مجھے کوچ کا اشارہ مِلا
عدو پہ فتح کی ساعت قریب جب آئی
مِرا حلیف مِرے سامنے صف آرا مِلا
مَیں اپنے کھوج میں نکلے ہوؤں کو آخرِ کار
لبِ فرات مِلا اور پارا پارا مِلا
مآلِ کار مجھے بانٹنے کا وقت آیا
تو اِک پری کو مِری ذات پر اجارا مِلا
کہاں چلا کبھی تقدیر پر کسی کا زور
گُہر کی کان میں یاروں کو سنگِ خارا مِلا
جہاں فقط زرِ وحشت کی حکمرانی تھی
اُسی نگر میں کہیں آدمی ہمارا مِلا
وہ جس کے چاہنے والوں کا کچھ شمار نہیں
میانِ خواب مِلا اور بے سہارا مِلا
ہے آدمی کے مقدّر میں صرف تنہائی
ہمیں یہ رنگ جہاں بھر میں آشکارا مِلا
نہ اپنی بات کنائے میں کہہ سکا ہوں مَیں
نہ اُس حَسیں کے لیے کوئی استعارہ مِلا
ہمارے ہاتھ تو برتن بنائے جاتے تھے
ہَوا نے چاک گھمایا تو اِک شرارا مِلا
عجیب طرح کا موسم تھا اُس علاقے کا
ہمیں تو دھوپ مِلی اور نہ ابر پارہ مِلا
خلوصِ دل سے ہیں ہم مے کدے کے شُکر گزار
ہمارے حق میں بالآخر کوئی ادارہ مِلا
رِدائے شام کو آسودگی مِلی ساجد
فشارِ خاک سے جب پانیوں کا دھارا مِلا
